سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی شخصیت کے متعلق 6 بڑے بڑے جھوٹ

5 mins read

مصنف  – صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

جھوٹ نمبر 1 – محمد بن سلمان کی تعلیم امریکہ میں ہے جس کی وجہ سے وہ امریکہ کے اشارے پہ کام کر رہے ہیں ۔
آٸینہ حقیقت آپ نے بنیادی تعلیم ریاض کے اسکولوں میں حاصل کی۔ آپ 2003 میں ثانوی تعلیم فراغت کے مرحلہ میں مملكت كی سطح پر ٹاپ ٹین طلبہ ميں شامل تھے۔ آپ نے تعلیمی مرحلہ کے دوران خصوصی کورسز اور پروگرام حاصل کیے۔ آپ نے کنگ سعود یونیورسٹی سے قانون میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور اپنی بیج میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔

جھوٹ نمبر2- امریکہ کے اشارے پر کام کر رہے ہیں ۔
آٸینہ حقیقت –
امریکی اخبار بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ریاض واشنگٹن کا سعودی عرب کی سکیورٹی کے لیے احسان مند نہیں ہے اور ‘ہم نے امریکہ سے اسلحہ خریدا ہے، یہ ہمیں مفت میں نہیں دیا گیا ۔

انھوں نے کہا: ‘سعودی عرب امریکہ سے پہلے بھی قائم تھا۔ اس کا قیام 1744 میں عمل میں آیا۔ میرے خیال سے امریکہ سے 30 سال پہلے۔ اور میرا خیال ہے کہ صدر اوباما نے اپنے آٹھ برسوں میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے خلاف کام کیا۔ امریکہ ہمارے ایجنڈے کے خلاف تھا مگر پھر بھی ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ بالآخر ہم کامیاب ٹھہرے اور اوباما کی قیادت میں امریکہ ناکام ہو گیا، 33 سالہ سعودی شہزادے نے کہا کہ ٹرمپ کے عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد سے سعودی عرب نے امریکہ سے 110 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا ہے ،
انھوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں یہ بھی شامل ہے کہ کچھ اسلحہ سعودی عرب میں تیار کیا جائے گا ۔
اس بیان سے بالکل صاف ہے سعودی عرب امریکہ کے دباٶ میں نہیں بلکہ ملک و ملت کے مفاد کی خاطر معاہدے کر رہا ہے ۔

جھوٹ نمبر 3 – محمد بن سلمان کو کسی کا حق مار کر ولی عہد بنایا گیا۔
آٸینہ حقیقت اپریل 2015 کو آپ کو شاہی حکم نامہ سے ولی عہد اور سعودی وزراء کابینہ کے صدر کا نائب دوم متعین کیا گیا۔ آپ کو آپ کے چچا زاد ولی عہد اور وزیر داخلہ محمد بن نایف بن عبد العزیز آل سعود کی سعودی بيعہ اتھارٹی کی طرف سے معزولی کے بعد جون 2017 کو ولی عہد مقررکیا گیا۔

جھوٹ نمبر 4 – محمد بن سلمان کی غلط پالیسیوں سے سعودی عرب تباہی کی طرف جارہا ہے ۔
آٸینہ حقیقت – محمد بن سلمان مكہ مکرمہ اور مشاعر ِ مقدسہ کے لیے رائل کمیشن کے صدر ہیں، جس کا مقصد مکہ مکرمہ شہر اور مشاعرِ مقدسہ میں سروسز کے معیار کو ان مقامات کی قدسیت اور مکانت کی وجہ سے بہتر بنانا اور اللہ کے گھر کے مہمان معتمرین اور حجاج کرام کے لیے سروسز کے حصول کو آسان بناناہے۔
امير محمد بن سلمان نے تاریخی مساجد ترقیاتی منصوبہ لاؤنچ کیا، جس کا مقصد دین اسلام میں ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کی حفاظت اور ان کو عبادت کے لیے تیار کرناہے۔

آپ نے سعودی ويژن 2030 پیش کیا ، جس کا مقصد تیل پر انحصار کی بجائے دیگر معاشی راہ داریوں کو وسعت دینے کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ، آپ نے اپنے اس عزم کا اظہار فرمایا کہ سعودی حکومت کا تیل پر سے انحصار ختم کر دیا جائے گا جسے آپ نے ” لَت” سے تعبیر کیا ہے۔

آپ نے حوثيوں کے خلاف یمن میں جنگ کی قیادت کی۔ آپ نے ایران کے جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی صلاحیت کی صورت میں سعودیہ کو ایٹمی ملک بنانے کی دھمکی دی۔
دی ایکونومسٹ میگزین نے آپ کو اپنے والد شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی حکومت کے پیچھے ایک طاقتور شخصیت سے تعبیر کیا۔

2017 میں امریکی ٹائم میگزین نے آپ کو قارئین کی طرف سے سالانہ شخصیت منتخب كيا۔اسی طرح امریکی فارن پالیسی میگزین نے اپنے 2015م کے 100 اہم مفکرین کی سالانہ فہرست میں آپ کو دنیا کے مؤثر رہنما کے طور پر منتخب کیا۔2018 م میں فوربس میگزین نے دنیا کے موثر ترین شخصیات کی فہرست میں آپ کو منتخب کیا۔

جھوٹ نمبر 5 – محمد بن سلمان کو اغوا اور قتل کردیا گیا ۔
آٸینہ حقیقت – “خبر” سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تقریباً ایک ماہ سے منظر عام سے غائب رہنے کے بعد ایرانی میڈیا کی جانب سے رواں ہفتے یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ محمد بن سلمان گزشتہ ماہ سعودی حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ کوشش کے دوران ہلاک ہوئے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی ولی عہد کے نجی آفس کے ڈائریکٹر بدر العساکر نے ان تمام افواہوں کو رد کرتے ہوئے ٹویٹ کے ذریعے ایک تصویر شیئر کی، جس میں محمد بن سلمان دیگر عرب رہنماٶں کے ہمراہ نظر آئے۔انہوں نے کہاکہ چند روز قبل سامنے آنے والی ایرانی میڈیا کی رپورٹس سے ان افواہوں کو تقویت ملی جس میں بے نام عرب ریاست کو بھیجی گئی اسی خفیہ سروس رپورٹ کے حوالے سے محمد بن سلمان کے ممکنہ طور پر زخمی ہونے اور ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔
اور یہ سو فیصد جھوٹ ابھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ محمد بن سلمان پاکستان اور بھارت کا دورہ کر رہے ہیں ۔

جھوٹ نمبر 6 – سعودی صحافی خاشقجی کا قتل محمد بن سلمان کے اشارے پر کیا گیا۔
آٸینہ حقیقت – امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اب بیان دیا ہے کہ وہ تمام انٹیلیجنس رپورٹیں جو ان کی نظروں سے گزری ہیں ان کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث نہیں ہیں ۔

خاشقجی کیس اور ترکی قطر کی ناکامی
خاشقجی مسئلے کو لیکر مملکت سعودی عرب کے خلاف ترکی اور قطر نے عالمی میڈیا خصوصا امریکی میڈیا میں کروڑوں ڈالر خرچ کئے اپنے محسن عظیم فارسی رافضی ایران کی مصلحت میں اور یمن میں سعودی اتحاد کو نکلنے پر مجبور کرنے کیلئے۔۔۔ لیکن ان کی ساری منحوس کوششیں ھباءً منثورًا ہو گئیں اور انکی ساری آرزو خاک میں مل گئی اس وقت جب امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان دیا کہ خاشقجی کیس میں سعودی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ریکارڈنگ ہمیں صحیح ملی جو دیا گیا وہ ترکی من گھڑت ہے۔۔۔ سعودی کے ساتھ ایران کے خلاف اور یمنی حل کیلئے ہمارا ساتھ جاری رہے گا۔۔۔

فرانس کے وزیر اعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ترکی کو اب اس مسئلے میں سعودی سے معافی مانگ لینی چاہیے ۔۔۔ کیونکہ اس نے سعودی کو بہت بدنام کیا ہے۔۔۔

اخوانیوں کا قاتل گروہ تو از مسئلے کو لیکر سعودی پر حملہ کرانا چاہتا تھا۔۔۔ اس پر اگلے پوسٹ میں۔
اللہ تعالی حرمین اور خاد الحرمین کو سلامت رکھے ، یہودی ، رافضی ، اور اخوانی فتنہ سے بھی محفوظ رکھے ۔