
<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسلام &#8211; The Milli Chronicle</title>
	<atom:link href="https://millichronicle.com/category/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://millichronicle.com</link>
	<description>Factual Version of a Story</description>
	<lastBuildDate>Mon, 01 Apr 2019 09:55:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	

<image>
	<url>https://media.millichronicle.com/2018/11/12122950/logo-m-01-150x150.png</url>
	<title>اسلام &#8211; The Milli Chronicle</title>
	<link>https://millichronicle.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اپریل فول ۔ خوفناک اور دل دہلا دینے والا مذاق</title>
		<link>https://millichronicle.com/2019/04/aprilfool-urdu-article.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 01 Apr 2019 09:54:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=3097</guid>

					<description><![CDATA[مصنف : ابو احمد کلیم الدين يوسف اسلام اپنے ماننے والوں کے مشاعر،  احساسات اور جذبات کا پورا خیال رکھتا]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><strong>مصنف : ابو احمد کلیم الدين يوسف</strong></p>
<p style="text-align: right;">اسلام اپنے ماننے والوں کے مشاعر،  احساسات اور جذبات کا پورا خیال رکھتا ہے،  کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کے مشاعر کو ٹھیس پہنچائے، جذبات سے کھیلے، وقار کو مجروح کرے اور احساسات کی ناقدری کرے،  اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کے بارے میں وہی سوچ رکھنے کی تلقین فرمائی ہے جو ایک مسلمان خود اپنے بارے میں سوچتا ہے،  جب ایک آدمی یہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس سے جھوٹا مذاق کرے، اسے پریشان کرے اور اسے مشکل میں ڈالے تو اپریل کی پہلی تاریخ کو دوسروں کے ساتھ یہی نازیبا حرکتیں کرنے کا جواز اسے کہاں سے مل جاتا ہے،  کیا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت نہیں؟</p>
<p style="text-align: right;">
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: &#8220;کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ دسرے مسلمان کو ہراساں کرے اور اسے ڈرائے&#8221;، کیا اپریل کی یکم تاریخ کے موقع پر خوفناک اور دل دہلا دینے والا مذاق نہیں کیا جاتا۔</p>
<p style="text-align: right;">
جھوٹ تو ویسے ہی کبیرہ گناہ ہے، پھر اس جھوٹ میں خوف و دہشت کی آمیزش تو اس شر کو مزید ہولناک بنا دیتی ہے،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں مذاق کرتے تھے لیکن ان کا مذاق مبنی بر حق ہوتا تھا،  جھوٹ سے پاک ہوتا تھا،  اور مذاق کسی کی رسوائی یا اس کو پریشان کرنے کا سبب نہیں بنتا تھا،  اس لئے اس موقع پر غیروں کے رنگ میں خود کو رنگنے سے محفوظ رکھئے،  اور اللہ کی پکڑ کا خوف دل میں بٹھائے،  چھوٹا گناہ بھی آپ کے لئے باعث ہلاکت ہو سکتا ہے، آپ کی زندگی کی رونقیں، برکتیں اور راحتیں دوسروں کو ہراساں و پریشان کرنے کے عوض چھن سکتی ہیں،  گناہ کو معمولی نہ سمجھیں، نبی نے گناہ کو معمولی سمجھنے سے منع فرمایا ہے،  جب آدم علیہ السلام کو شجر ممنوعہ کا صرف ایک پھل کھانے کے سبب اللہ جنت سے نکال سکتا ہے،  بلی کو تکلیف دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کر سکتا ہے تو پھر اپریل کی پہلی تاریخ کو جھوٹ بولنے،  مسلمان کے ساتھ بھدا مذاق کرنے،  مسلمان کو تکلیف پہنچانے اور غیروں کی مشابہت اختیار کرنے کے بدلے اللہ رب العالمین اسے کن کن عذاب سے دوچار کرےگا اس کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">
اس لئے اپنی جنت،  رب کی رضا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا سودا اپریل فول سے نہ کریں،  اپنے آپ کو اور اپنی جنت کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تیسری قسط : امیر المؤمنین و کاتبِ وحی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما</title>
		<link>https://millichronicle.com/2019/01/muawiyah-part-3-urdu.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 22 Jan 2019 17:48:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Faith]]></category>
		<category><![CDATA[Lifestyle]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=2245</guid>

					<description><![CDATA[علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ اجتہاد پر مبنی تھا، جن کا اجتہاد]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p style="text-align:right">علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ اجتہاد پر مبنی تھا، جن کا اجتہاد صحیح ہے وہ دو اجر کے مستحق ہونگے، اور جو اپنے اجتہاد میں غلطی کرگئے وہ ایک اجر کے مستحق ہونگے۔<br>دوسری بات یہ کہ قدرو منزلت میں ان کا موازنہ ان کے بعد کے لوگوں سے کرنا بالکل خلافِ عدل وشریعت ہے، کیوں کہ</p>



<p style="text-align:right"> اللہ ان سب سے راضی ہے۔<br> وہ سب کے سب قرآن کی شہادت کے مطابق جنتی ہیں۔<br> نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالخصوص ان نفوسِ قدسیہ کے متعلق بدزبانی سے منع کیا ہے۔<br> اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں، یعنی سب سچے اور ثقہ ہیں۔</p>



<p style="text-align:right">اس لئے ان کے مابین ہونے والے آپسی اختلافات کو اسی نظر سے دیکھنا جیسے ہم اپنے درمیان کے اختلافات کو دیکھتے ہیں، نیز ان اختلافات کا محاکمہ اسی طرح کرنا جیسے ہم اپنے درمیان کے اختلافات کا کرتے ہیں کم علمی اور مزاجِ شریعت سے عدمِ واقفیت کا بین ثبوت ہے۔</p>



<p style="text-align:right">یاد رہے کہ کتاب وسنت کو سمجھنے میں ہم آزاد نہیں ہیں، بلکہ کتاب وسنت کے کسی بھی مسئلہ کو فہم سلف کے مطابق ہی سمجھنا نقطہ اتصال کی حیثیت رکھتا ہے جسے بروئے کار نہ لانا اسلام کی حقیقی تعلیم سے دوری اور ضلالت وگمراہی کی پگڈنڈیوں پر گامزن ہونے کا بنیادی سبب ہے۔<br>اگر کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے فہم سلف کی ضرورت نہیں ہوتی تو خوارج، معتزلہ، قدریہ، روافض، مرجئہ، جہمیہ اور دیگر تمام فرقِ باطلہ اپنے منہج اور استدلال واستنباط میں صحیح قرار پاتی، کیوں کہ یہ تمام فرقے اپنی کج روی اور باطل نظریات پر کتاب وسنت سے ہی استدلال کرتے ہیں۔<br>خلاصہ کلام یہ کہ ہر کسی کی سمجھ سے کتاب وسنت کو نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی ہر کسی کی سمجھ قابلِ اعتبار ہو سکتی۔</p>



<p style="text-align:right">ایک اور بات کا جاننا بہت ہی ضروری ہے کہ کسی مسئلہ میں سلف کی خاموشی قطعا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اس مسئلہ کا حل نہیں جانتے تھے، یا اس کو نہیں سمجھتے تھے، بلکہ خشیتِ الہی اور زہد و ورع کا تقاضا ہی یہی تھا کہ اس مسئلہ میں خاموشی اختیار کی جائے، اور ان مسائل پر لب کشائی کی جائے جو امت کیلئے دنیوی و اخروی زندگی کی سعادت کا سبب بنے۔</p>



<p style="text-align:right">مصنف : ابو احمد کلیم  &#8211; جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دوسری قسط : امیر المؤمنین و کاتبِ وحی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما</title>
		<link>https://millichronicle.com/2019/01/muawiyah-part-2-urdu.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 22 Jan 2019 17:44:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Faith]]></category>
		<category><![CDATA[Lifestyle]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=2243</guid>

					<description><![CDATA[علماء کرام کو دین میں ایک خاص مقام حاصل ہے، ان کی باتیں مشکوٰۃ نبوت کا ماحصل ہوتی ہیں، دین]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p style="text-align:right">علماء کرام کو دین میں ایک خاص مقام حاصل ہے، ان کی باتیں مشکوٰۃ نبوت کا ماحصل ہوتی ہیں، دین کے محافظ، انبیاء کے وارث، توحید کے داعی، سنت کے حامی اور بدعت کے ماحی ہوتے ہیں، اللہ رب العالمین نے اپنی وحدانیت پر گواہ بنانے کے لیے جن کا انتخاب کیا ان میں سے علماء بھی ہیں، اس لئے ان کی بات قابلِ توجہ اور لائقِ التفات ہوتی ہیں، اور خاص کر جب ان علماء کا تعلق خیر القرون سے ہو تو اہمیت مزید دوبالا ہو جاتی ہے، اس لئے جن اقوال کو ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں پیش کریں گے وہ یہ کہہ کر ردی کی ٹوکری میں نہ ڈالی جائے کہ علماء کی بات قرآن وحدیث کا درجہ نہیں رکھتی ہیں، یہ ان کی اپنی رائے ہو سکتی ہے، یاد رہے کہ ہر رائے رد نہیں کی جاتی، جو رائے قرآن وحدیث کے موافق ہو اسے تسلیم کیا جاتا ہے اور جو مخالف ہو اسے نہیں مانا جاتا۔<br>جب چودہویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے غیر عالم شخص کی غیر معتبر بات لوگوں کیلئے قابل قبول ہو سکتی ہے تو پھر صحابہ و تابعین کے زمانے میں پیدا ہونے والے محدثین وفقہاء کی بات قابلِ قبول کیوں نہیں ہو سکتی؟<br>نیز یہ کہ خیر القرون کے علماء نے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد کے بزرگان دین کا زمانہ دیکھا ہے، اوراس صحابی جلیل کے ساتھ ان کا تعامل بھی دیکھا ہے، اور خود اس صحابی کو بھی دیکھا ہے یا ان کے بارے میں بہت قریب سے سنا ہے، تو پھر ان کی بات قابلِ تسلیم کیوں نہیں ہوسکتی؟ جبکہ سلف حق بات کہنے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، نہ ہی انہیں منصب وکرسی کی حرص و ہوس تھی، اور نہ ان کی نظر سرکاری امداد پر ہوتی تھی، اس لئے فہم سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کو سلف کہتے ہیں) اسلام کو سمجھنے کیلئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔<br>معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سلف صالحین کی کیا رائے ہے آئیے اب ہم وہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>



<p style="text-align:right">عمر وعثمان رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے حاکم رہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حاکم خود نہیں بنے تھے بلکہ مذکورہ دونوں خلیفہ نے اپنے اپنے زمانے میں انہیں شام کا گورنر بنایا تھا، دونوں خلیفہ راشد دور اندیش، بردبار، حکیم ودانا، اور عالم وفاضل تھے، چنانچہ ان کا انتخاب بھی علم وفضل اور سیاسی امور میں حسنِ تصرف کی بنیاد پر ہی ہوتا تھا، اب یہاں غور کا مقام ہے کہ دونوں خلیفہ راشد نے ان کو حاکم بنانے پر اتفاق کرلیا لیکن اس زمانے کے بعض منہ زور افراد انہیں صحابی بھی ماننے کو تیار نہیں، خلفائے راشدین کا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بطور گورنر بھروسہ کرنا خلفاء راشدین کے نزدیک ان کے بلند مقام اور ان کی ثقاہت کو واضح کرتا ہے۔</p>



<p style="text-align:right"> سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کی موت اس حالت میں ہوئی ہو کہ وہ خلفائے راشدین سے محبت کرتا تھا، اور عشرہ مبشرہ بالجنہ پر یقین رکھتا تھا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کیلئے رحمت کی دعائیں کرتا تھا تو ممکن ہے کہ اللہ رب العالمین اس کا کوئی حساب وکتاب نہ کرے۔</p>



<p style="text-align:right">عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبد العزیز میں افضل کون ہیں؟ <br>عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دورانِ جنگ جو غبار معاویہ رضی اللہ عنہ کی ناک میں داخل ہوئی وہ عمر بن عبد العزیز سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔</p>



<p style="text-align:right">جب مذکورہ بالا سوال معافی بن عمران رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو وہ غصہ ہوگئے اور فرمایا: تم نے صحابی کو تابعی کے برابر کیسے قرار دیا، کسی بھی تابعی کا ایک صحابی سے مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ نبی کے ساتھی ہیں، ان کے سسرالی رشتہ دار، اور کاتبِ وحی ہیں۔</p>



<p style="text-align:right"> عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے نزدیک محبتِ صحابہ کے پرکھنے کا معیار ہیں، چناں چہ جو معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نگاہِ غلط اٹھاتا ہے، یا ان کے خلاف بغض و عداوت رکھتا ہے ہم اسے پورے صحابہ سے نفرت کرنے والا سمجھتے ہیں۔<br>یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات میں طعن پورے صحابہ کی ذات میں طعن کے مترادف ہے۔</p>



<p style="text-align:right"> ربیع بن نافع الحلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے حجاب کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ جو حجاب سے چھیڑ خانی کرسکتا ہے وہ حجاب کے پیچھے چھپی اشیاء سے بدرجہ اولیٰ چھیڑ خانی کر سکتا ہے۔</p>



<p style="text-align:right"> امام سجزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:جو شخص عثمان، علی، عائشہ، معاویہ، عمرو بن العاص، اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں تنقیص کرتا ہے وہ خارجی اور گمراہ ہے۔</p>



<p style="text-align:right">ابراھیم بن میسرۃ کہتے ہیں کہ:میں نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو کبھی کسی انسان کی پٹائی کرتے نہیں دیکھا، ہاں اگر کوئی معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا کہتا یا ان کی شان میں گستاخی کرتا تو پھر اس پر کوڑے برساتے تھے۔<br></p>



<p style="text-align:right">امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو کچھ ہوا اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام احمد نے جواب دیا کہ: میں ان کے بارے سوائے اچھی بات کے اور کچھ نہیں کہوں گا، ان سب پر اللہ رب العالمین اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔</p>



<p style="text-align:right"> ابوزرعۃ رازی رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں معاویہ سے نفرت کرتا ہوں، تو ابوزرعۃ نے اس سے پوچھا کہ کیوں نفرت کرتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ: انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی اسی وجہ سے میں ان سے نفرت کرتا ہوں، ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ نے اس شخص سے کہا کہ: تو برباد ہوجائے، معاویہ رضی اللہ عنہ کا رب رحیم ہے، اور علي رضي الله عنہ جن سے انہوں نے قتال کیا وہ کریم الطبع اور شریف النفس ہیں، نیز ان دونوں سے اللہ راضی ہے، تو پھر تم کون ہوتے ہو ان دونوں کے درمیان دخل اندازی کرنے والے؟</p>



<p style="text-align:right">امام نسائی رحمہ اللہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا<br>اسلام کی مثال ایک گھر کی طرح ہے جس کا ایک دروازہ ہے، اور وہ دروازہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، چنانچہ جو صحابہ کو تکلیف دیتا ہے گویا کہ وہ اس گھر کو برباد کرنا چاہتا ہے، اور جو دروازہ پر دستک دیتا ہے در اصل وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے ( یعنی جو صحابہ پر لعن طعن کرتا ہے در اصل وہ اسلام پر طعن کرنا چاہتا ہے)، اور جو معاویہ رضی اللہ عنہ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے حقیقت میں وہ پورے صحابہ کو مطعون کرنا چاہتا ہے۔</p>



<p style="text-align:right">تلک عشرۃ کاملۃ</p>



<p style="text-align:right">قارئینِ کرام یہ تو مشتِ نمونہ از خروارے ہے، ورنہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کیلئے۔</p>



<p style="text-align:right">مصنف : ابو احمد کلیم  &#8211; جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پہلی قسط : امیر المؤمنین و کاتبِ وحی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما</title>
		<link>https://millichronicle.com/2019/01/muawiyah-part-1-urdu.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 22 Jan 2019 17:34:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Faith]]></category>
		<category><![CDATA[Lifestyle]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[ابی سفیان]]></category>
		<category><![CDATA[معاویہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/?p=2240</guid>

					<description><![CDATA[زوالِ علم کے اس دور میں ہر کوئی مفتی بننے کیلئے طبع آزمائی کرتا نظر آرہا ہے، خاص کر ٹیلیویژن]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p style="text-align:right">زوالِ علم کے اس دور میں ہر کوئی مفتی بننے کیلئے طبع آزمائی کرتا نظر آرہا ہے، خاص کر ٹیلیویژن اور اجتماعی مواصلات سوشل میڈیا نے تو مذکورہ خواہش رکھنے والوں کو بہترین میدان فراہم کیا ہے، چنانچہ موہنجوداڑو میں چھپے خزانے کی کھوج کی طرح ہر دن ایک نئے مفتی کا حصول ہو رہا ہے، نیز روز بروز نت نئی تحقیق سامنے آرہی ہے، اور اس تحقیق کو مزخرف کرکے ایسے پیش کیا جارہا ہے گویا کہ علی الصبح کوئی نئی وحی ان کے ہاتھ لگی ہو۔</p>



<p style="text-align:right">ہم اہل علم اور تحقیق و جستجو کے بالکل بھی خلاف نہیں، لیکن تحقیق کے نام پر &#8220;تحکیک&#8221; اور علم کے نام پر &#8220;الم&#8221; سے ہمیں ویسی ہی تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی نوزائیدہ بچے کے کان میں ریل کی سیٹی قریب سے بجانے سے ہوتی ہے۔</p>



<p style="text-align:right">دورِ حاضر میں تقریبا ہر شخص سیال قلم کا مالک ہے، لکھاریوں کا سیلاب امنڈ پڑا ہے، زبان سے زیادہ انگلیاں رقص کرتی نظر آرہی ہیں، ہر شخص آزادی رائے کے نام پر بلا خوف و خطر کسی بھی موضوع پر خامہ فرسائی کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا، چاہے وہ اس موضوع سے بالکل نابلد ہو یا اس تعلق سے اس کی حیثیت طفل مکتب سی ہو۔</p>



<p style="text-align:right">شرعی علوم کو چھوڑ کر دیگر علوم میں جس سے آپ کی وابستگی نہ ہو اگر آپ رائے زنی کرتے ہیں تو اس میدان کے ماہرین آپ کا بخیہ ادھیڑ نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ تے ہیں، ہر جگہ آپ کا ناطقہ بند ہو جاتا ہے، ذلت ورسوائی الگ سے پروسی جاتی ہے۔<br>لیکن اگر آپ مسلمان ہیں، شرعی علوم سے آپ کے سات پشتوں تک کا کوئی رشتہ نہیں ملتا اس کے باوجود اگر آپ کوئی ایسی رائے پیش کریں جو نقلا، عقلا اور علما مضحکہ خیز ہو پھر بھی بعض ثقافتی حلقے میں آپ کی کافی پذیرائی ہوگی، بلکہ آپ جیسی شخصیت کیلئےان کے دل کے سارے دروازے کھلے ملیں گے۔</p>



<p style="text-align:right">دین اسلام کے مسلمات سے چھیڑ چھاڑ کرنا اور پھر اپنی رائے کے ذریعہ ان اصولوں کو غلط ثابت کرنے کا چلن عام ہو چلا ہے۔</p>



<p style="text-align:right">محمد المسعری جو اصل میں سعودی ہے لیکن امریکہ میں پناہ گزین ہے، اس نے فیزیکس فزکس میں پی ایچ کی ڈگری حاصل کی ہے، اور اس کا استاذ بھی رہ چکا ہے، اس نے حال ہی میں اپنے ایک ٹویٹ میں معاویہ رضی اللہ عنہ پر نعوذباللہ لعنت کرنے کی بات کی ہے۔<br>مولانا مودودی ایک سیاسی اور فلسفی تھے، لیکن خمینی کے انقلاب سے اس قدر متاثر ہوئے کہ تمام حدیں پار کردیں، انہوں نے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی عتاب کا نشانہ بنایا۔<br>سید قطب ایک قلم کار تھے، لیکن یہ ہر فکر سے متاثر تھے، ان پر سب سے زیادہ خارجیت غالب تھی، انہوں نے بھی معاویہ رضی اللہ عنہ پر بہتان تراشیوں میں اپنا پورا زور صرف کیا ہے۔<br>یہ تینوں اور ان کے ہمنوا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایک ہی پلیٹ فارم پر قائم ہیں۔<br>مذکورہ اشخاص میں سے کسی کا بھی تخصص شرعی علوم نہیں، لیکن تینوں اپنے اپنے طور مفتی مانے جاتے ہیں، بلکہ ان کے فتاوے کو محدثین وفقہاء پر ترجیح حاصل ہوتی ہے۔<br>اگر آپ بیسویں صدی سے قبل کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اہل سنت والجماعت کا لبادہ اوڑھ کر منظم طریقہ سے صحابہ کی جماعت کو نشانہ بنانے کا کام پہلے کبھی نہیں ہوا، کیوں کہ اس سے قبل سب اپنے اپنے فن کے اصول و ضوابط سے بخوبی واقف تھے، اور انہی مسائل سے وہ دلچسپی لیتے تھے جس میں ان کا تخصص ہوتا تھا۔<br>اگر سلف کے اقوال کو بغور پڑھ لیا جاتا تو صحابہ پر یوں طعن کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی، لیکن جب کج فکر افراد کو اپنا مرشد وقائد مان لیا جائے تو:<br>إذا كان الغراب دليل قوم يمر بهم إلى جيف الكلاب<br>صادق آتا ہے۔</p>



<p style="text-align:right">اگلی قسط میں &#8220;معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقام علماء اسلام کے اقوال کی روشنی میں&#8221; ملاحظہ فرمائیں، ان شاءاللہ۔</p>



<p style="text-align:right">مصنف : ابو احمد کلیم  &#8211; جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ </p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بعثت رسول ﷺ کے مقاصد</title>
		<link>https://millichronicle.com/2018/10/religious-urdu-prophet.html</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Millichronicle]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Oct 2018 08:32:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[نمایاں مضامین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://millichronicle.com/2018/10/%d8%a8%d8%b9%d8%ab%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%ef%b7%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%b5%d8%af%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[تحریر &#8211; عمران احمد ریاض الدین طائفی ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب محمد رسول اللہ]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;"><i>تحریر &#8211; </i><i><a target="_blank" rel="noopener" href="https://www.facebook.com/profile.php?id=100004295013485">عمران احمد ریاض الدین طائفی</a></i></p>
<p>ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنےبھی نبی یا رسول اس جہاں فانی میں مبعوث ہوئے ان سب کی بعثت کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کی دعوت رہا،اور اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے سنہری کڑی کو جناب محمد ﷺ پر ختم کیا ،اور آپ کی بعثت کا مقصد بھی دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح دعوت توحیدہی رہا،آپ ﷺنے انسانوں کو انسانوں کی عبادت و غلامی سے نجات دلا کر اللہ واحد و قہار کی واحدانیت اور کبریائی سے آشنا کرکے اُن کی جبینوں کو خالق و مالک حقیقی کے در پر جھکایا،لوگوں کے سامنے ان کے حقیقی رب کا تصور پیش کیا اور ان کو اس بات سے آگاہ کیا کہ ایک اللہ کے عبادت میں ہی ان کی دنیا و آخرت کی کامیابی مضمر ہے،دعوت دین کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کو ان کی جائے پیدائش سے نکالا گیا، اڑھائی برس تک شعب ابی طالب میں محصور رکھا گیا، اُن کی ایسی آزمائش کی گئی کہ چشمِ فلک کے بھی آنسو نکل آئے۔ رحمۃللعالمینﷺ کو نازیبا کلمات کہے گئے، آپﷺ کو گالیاں دی گئیں، طائف کے بازاروں میں آپﷺ کے ابریشم سے بھی نازک جسمِ اطہر کو پتھروں سے مضروب کیا گیا اور جب نبی رحمت ﷺ ایک لمحے کے لیے کسی درخت کے سائے تلے آرام کے لیے رکتے تو آوارگان طائف پھر جسمِ اطہر کو تختۂ مشق ستم بنانے لگتے۔ غیراللہ کی نفی اوربت پرستی کے خلاف اعلان ِ بغاوت کرنے اور دعوتِ الی الحق دینے کی وجہ سے آپﷺکے اعزہ اور رفقائے کار کو وحشت ناک مصائب کی بھٹی میں جھونکا گیا۔دعوت دین میں آپ ﷺ کو انتہائی اندوہ ناک اور صبر آزما اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی ایسی اذیتیں جن کے محض تصور سے ہی انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔</p>
<p>آپ ﷺ جس مقصد کے لئے کائنات میں نبی و رسول بنا کر بھیجے گئے آپ نے اس فريضہ نبوت کو کما حقہ ادا کیا اور بالکلی عرب میں چرغ توحید کو روشن کیا،اور تمام عرب کے دل میں توحید جب رچ بس گیا تو اللہ کے حکم سے رفیق اعلیٰ سے جا ملے،دن و رات گردش کرتے رہیں،آبادیاں بڑھتی رہیں اور تدریج با تدریج لو گوں کے دلوں میں ایک اللہ کا تصور توباقی رہا مگر عمل کے میدان میں لوگ شرک ،بدعت اور ضلالت و گمراہی کے دلدل میں پھنستے چلے گئے یہاں تک کے آپ ﷺ کی بعثت کا جو اصل مقصد تھا لوگوں نے فراش کر کے آپ ﷺ کی ذات مبارکہ کو ہی الوہیت کے صف میں لا کر کھڑا کردیا،اور لبیک یا رسول اللہ،اغثنی یا رسول اللہ کے نارے بلند ہونے لگے اورمحبت رسول کے نام پر امت میں مختلف انواع و اقسام کے شرکیات نے رواج پا لیا اور کہیں لا علمی تو کہیں جان بوجھ کر لوگوں نے ان شرکیات و بدعات کو ہی اصل دین سمجھ لیا۔</p>
<p>ذیل میں ہم ان شاء اللہ کتاب و سنت کی روشنی میں اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کے بعض مقاصد کا تذکرہ کر رہیں ہیں ۔</p>
<p><strong>پہلا مقصد</strong> : ایک اللہ کی عبادت کی دعوت : اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ساری کائنات کے انسانوں اور جنوں کے لئے نبی اور رسول بنا کر مبعوث ،آپ کی بعثت جس زمانے میں ہوئی وہ زمانہ اور اس زمانے کے لوگ شرک اور ضلالت و گمراہی کے اندھیروں میں سرگرداں پھر رہے تھے،لہذا اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کو کلمہ لا الہ اللہ کی دعوت کا حکم دیا کہ لوگو کو اس بات سے آگاہ کر دیں کہ وہ جنکی بھی عبادتیں کر رہیں ہیں یہ سب کے سب باطل اور منگھڑت معبود ہیں ،ان کا حقیقی معبود ایک ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے،اللہ تعالیٰ نے بعثت کے اس مقصد کو قرآن مجید میں بیان کیا اور فرمایا کہ { وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولا أَنْ اُعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ } ترجمہ : ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو ( سورۃ النحل /36) اور طاغوت کا اطلاق شریعت کی اصطلاح میں ہر اس چیز پر ہے جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جائے یا ہو و چیز ہے جو اپنی عبادت کے طرف دعوت دے، اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید کی دعوت کے لئے تمام انبیاء کے بعثت کا مقصد بتایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ {وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَانِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ}ترجمہ : اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو !جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے؟۔</p>
<p><strong>دوسرا مقصد</strong> : تبشیر و انذار : نبی ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ ہیکہ جو لوگ دعوت توحید کو قبول کر کے اللہ اور اس کے رسول کے بیان کر دہ ضوابط کے مطابق زندگی گزاریں تو ان کو آپ ﷺ اللہ کی نعمتوں والی جنت کی خوشخبری سنائیں،اور اس کے بر عکس جو لوگ آپ کی دعوت قبول نہ کریں اوراپنی نفسانی خواہشات کے مطابق زندگی گزارکرشرکیات و خرافات میں مبتلا رہیں ان کو آپ اللہ کے تیار کردہ عذاب سے ڈرائیں جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے {وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ }ترجمہ : ہم تو اپنے رسولوں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبریاں سنادیں اور ڈرادیں (سورۃ الکھف/56) مزید اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کو بیان کیا کہ {رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لأَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} ترجمہ : ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اللہ تعالیٰ بڑٓ غالب اور بڑا با حکمت ہے۔( سورۃ النساء/165)۔</p>
<p><strong>تیسرا مقصد</strong> : لوگوں کو زندگی کےبنیادی اختلاف سے نکالنے اور رضائے الہٰی کے مطابق زندگی گزارنے کی رہنمائی: اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہیکہ آپ نے لوگوں کے اصول زندگی میں پائے جانے والے تمام تر اختلافات کا حل وحی الہٰی کی روشنی میں پیش کیا، اور ان کو یہ بتایا کہ ان کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف ایک اللہ کی عبادت ہو اور اس عبادت کے ذریعہ رضاالہیٰ مقصود ہونی چاہئے،جیساکہ جب ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں غور و فکر کریں تو اس بات کا علم ہو جائیگا کہ صحابہ کرام کی زندگی کے ہر لمحات جہاں توحید و سنت کی اتباع تھی وہیں وہ نفوس قدسیہ صرف اور صرف رضائے الہٰی کے متلاشی تھے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کی وضاحت اپنی کلام مزید میں یو ں بیان کیا کہ {وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلا لِتُبَيِّنَ لَهُمْ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ}ترجمہ : اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ ان کے لئے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان داروں کے لئے راہنمائی اور رحمت ہے۔(سورۃ النحل/64)۔</p>
<p><strong>چوتھا مقصد</strong> : لوگوں کی تعلیم اور ان کا تزکیہ نفس :آپ ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ ہیکہ اللہ رب العالمین نےجہاں آپ کو امام اعظم بنا کر مبعوث کیا وہیں آپ ﷺ کو معلم اعظم بنایا اور آپ نے لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی،ان تمام اعمال کی نشاندہی کی جو اللہ تعالیٰ سے قریب کرنے والی ہیں،وہیں آپ ﷺ نے ان تمام اعمال سے امت کو آگاہ کی اجو اللہ تعالیٰ سے دور اور جہنم کے قریب کرنے والی ہے،آپ نے لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی ،اور آپ ﷺ نے کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعہ لوگوں کے اندر پائے جانے والے میل کچیل سے ان کے نفس کا تزکیہ کیا اور تاریخ اس بات کی شاہد ہیکہ اس تزکیہ نفس کی وجہ سے جو قوم تاریخ کے اوراق میں سب سے پچھڑی ہوئی اور پسماندہ اور غیر مہذب تصور کی جاتی تھی وہی قوم تاریخ کے پارینہ اوراق میں دینی اور معاشرتی طور پر سب سے کامیاب لکھی گئی،اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کے اس مقصد کو قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا کہ {هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأُمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ} ترجمہ : وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے،یقینا ی اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔(سورۃ الجمعۃ /2)۔</p>
<p><strong>پانچواں مقصد</strong> : اقامت دین،اختلاف سے روکنے اور اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کے لئے: اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کو اور بالخصوص ہمارے نبی ﷺ کو یہ ایک عظیم مشن دیکر بھیجا کہ آپ اللہ کی وحدانیت پر دین کا قیام کریں لوگوں کو اس دین کی دعوت دیں،اس دین پر مکمل عمل کرنے کی تلقین کریں،اور لوگوں کو ان کے دینی و معاشرتی تمام تر معاملات میں ہر طرح کے اختلافات سے دور رہنے کی تلقین کریں،اور جب آپسی اختلاف ہو جائے تو اللہ کی وحی کے ذریعہ فیصلہ کرکے ان اختلافات کا حل کریں کیونکہ اللہ کی وحی کے علاوہ کہیں اور سے فیصلہ کرنا طاغوت کی حاکمیت قبول کرنا ہے اور شریعت نے اسے شرک اکبر سے تعبیر کیا ہے،بعثت کی اس مقصد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان کیا کہ{شَرَعَ لَكُمْ مِنْ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ} ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کر دیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دی تھا اور جو (بذریعہ وحی)ہم نے تیری طرف بھیج دی ،اور جس کی تاکید ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام ) کو دیا تھ اکہ اس دین کو قائک رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں وہ تو(ان) مشرکین پر گراں گزرتی ہے اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنا برگزیدہ بناتا ہے اور جو بھی اس کی طرف رجوع کرے وہ اس کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔(سورۃ الشوری/13)۔مزید آپ ﷺ کی بعثت کا یہ مقصد قرآن مجید ایک اور آیت کریمہ سے ہوتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے{إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا} ترجمہ : یقینا ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو۔(سورۃ النساء/105)۔</p>
<p><strong>چھٹا مقصد : </strong>لوگ آپ کی سیرت طیبہ کو اپنے لئے اسوہ اور نمونہ سمجھیں : آپ ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہیکہ ہر مسلمان اپنی زندگی کے تمام تر مراحل میں آپ کو اپنے لئے اسوہ و نمونہ سمجھے اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر آپ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں عمل پیرا ہو،کیونکہ آپ کی اتباع میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرا نی مضمر ہے،کیونکہ آپ کی اتباع و تابعداری در حقیقت اللہ کی اتباع و تابع داری ہے،لہذا ہر مسلمان کو اس بات کا عمل ہونا چاہئے کہ اس کائنات کے اندر اگر کوئی ذات ہمارے لئے اسوہ و نمونہ ہو سکتی ہے اور کسی کی اتباع و تابعداری کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ کے رسولﷺ کی ذات مبارکہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بعثت کی اس مقصد کو اپنی کتاب عزیز میں یوں بیان کیا کہ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا}ترجمہ : یقینا تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے،ہر اس شخص کے لئےجو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ (سورۃ الأحزاب:21)۔</p>
<p><strong>ساتواں مقصد</strong> : بندوں پر اقامت حجت کے لئے:اللہ رب العالمین نے نبی اکرم ﷺکو ساری کائنات کے لئے اپنا آخری نبی و رسول بنا کر مبعوث کیا ب آپ کے بعد کوئی نبی یا رسول اس کائنات میں قیامت تک نہیں آنے والا اور اگر کسی نے اپنی نبوت و رسالت کا دعوہ بھی کیا تو وہ کائنات کا سب سے بڑا کذاب و دجال شمار کیا جائے گا،اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت کا ایک اہم مقصد یہ ہیکہ آپ کو بھیج کراللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کر دیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ {لَوْلا أَرْسَلْتَ إلَيْنَا رَسُولاً فَنَتَّبِعَ آياتكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ ونَخْزَى} ترجمہ : اے ہمارے پروردگار تونے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔(سورۃ طہ/134)،اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی ایک دوسری آیت کریمہ میں بعثت کی اس مقصد کو یوں واضح کیا کہ {رُسُلا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لأَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا} ترجمہ : ہم نے انہیں رسول بنایا ہے خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر رہ نہ جائے اللہ تعالیٰ بڑٓ غالب اور بڑا با حکمت ہے۔( سورۃ النساء/165)۔</p>
<p>یہ وہ بعض مقاصد ہیں جن کےبر آوری کے لئے اللہ کے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ ے نبوت و رسالت دیکر پوری کائنات کی طرف بھیجا ،اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھتا ہیکہ آج امت اسلامیہ کی اکثریت نبی ﷺ کی بعثت کےاہم مقاصد کو بھول چکی ہے،جس کا سب سے بڑا خسارہ آج ہم نبی کائنات کے نام پر ہونے والے بدعات و خرافات کو دیکھتے ہیں۔۔ اللہ تعالی ٰ ہم سب کو کتاب و سنت کی صحیح سمجھ دے ۔۔ آمین</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
