دوسری قسط : امیر المؤمنین و کاتبِ وحی معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما

5 mins read

علماء کرام کو دین میں ایک خاص مقام حاصل ہے، ان کی باتیں مشکوٰۃ نبوت کا ماحصل ہوتی ہیں، دین کے محافظ، انبیاء کے وارث، توحید کے داعی، سنت کے حامی اور بدعت کے ماحی ہوتے ہیں، اللہ رب العالمین نے اپنی وحدانیت پر گواہ بنانے کے لیے جن کا انتخاب کیا ان میں سے علماء بھی ہیں، اس لئے ان کی بات قابلِ توجہ اور لائقِ التفات ہوتی ہیں، اور خاص کر جب ان علماء کا تعلق خیر القرون سے ہو تو اہمیت مزید دوبالا ہو جاتی ہے، اس لئے جن اقوال کو ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں پیش کریں گے وہ یہ کہہ کر ردی کی ٹوکری میں نہ ڈالی جائے کہ علماء کی بات قرآن وحدیث کا درجہ نہیں رکھتی ہیں، یہ ان کی اپنی رائے ہو سکتی ہے، یاد رہے کہ ہر رائے رد نہیں کی جاتی، جو رائے قرآن وحدیث کے موافق ہو اسے تسلیم کیا جاتا ہے اور جو مخالف ہو اسے نہیں مانا جاتا۔
جب چودہویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے غیر عالم شخص کی غیر معتبر بات لوگوں کیلئے قابل قبول ہو سکتی ہے تو پھر صحابہ و تابعین کے زمانے میں پیدا ہونے والے محدثین وفقہاء کی بات قابلِ قبول کیوں نہیں ہو سکتی؟
نیز یہ کہ خیر القرون کے علماء نے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد کے بزرگان دین کا زمانہ دیکھا ہے، اوراس صحابی جلیل کے ساتھ ان کا تعامل بھی دیکھا ہے، اور خود اس صحابی کو بھی دیکھا ہے یا ان کے بارے میں بہت قریب سے سنا ہے، تو پھر ان کی بات قابلِ تسلیم کیوں نہیں ہوسکتی؟ جبکہ سلف حق بات کہنے میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، نہ ہی انہیں منصب وکرسی کی حرص و ہوس تھی، اور نہ ان کی نظر سرکاری امداد پر ہوتی تھی، اس لئے فہم سلف (صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کو سلف کہتے ہیں) اسلام کو سمجھنے کیلئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں سلف صالحین کی کیا رائے ہے آئیے اب ہم وہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

عمر وعثمان رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے حاکم رہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حاکم خود نہیں بنے تھے بلکہ مذکورہ دونوں خلیفہ نے اپنے اپنے زمانے میں انہیں شام کا گورنر بنایا تھا، دونوں خلیفہ راشد دور اندیش، بردبار، حکیم ودانا، اور عالم وفاضل تھے، چنانچہ ان کا انتخاب بھی علم وفضل اور سیاسی امور میں حسنِ تصرف کی بنیاد پر ہی ہوتا تھا، اب یہاں غور کا مقام ہے کہ دونوں خلیفہ راشد نے ان کو حاکم بنانے پر اتفاق کرلیا لیکن اس زمانے کے بعض منہ زور افراد انہیں صحابی بھی ماننے کو تیار نہیں، خلفائے راشدین کا معاویہ رضی اللہ عنہ پر بطور گورنر بھروسہ کرنا خلفاء راشدین کے نزدیک ان کے بلند مقام اور ان کی ثقاہت کو واضح کرتا ہے۔

سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کی موت اس حالت میں ہوئی ہو کہ وہ خلفائے راشدین سے محبت کرتا تھا، اور عشرہ مبشرہ بالجنہ پر یقین رکھتا تھا، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کیلئے رحمت کی دعائیں کرتا تھا تو ممکن ہے کہ اللہ رب العالمین اس کا کوئی حساب وکتاب نہ کرے۔

عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبد العزیز میں افضل کون ہیں؟ 
عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دورانِ جنگ جو غبار معاویہ رضی اللہ عنہ کی ناک میں داخل ہوئی وہ عمر بن عبد العزیز سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

جب مذکورہ بالا سوال معافی بن عمران رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو وہ غصہ ہوگئے اور فرمایا: تم نے صحابی کو تابعی کے برابر کیسے قرار دیا، کسی بھی تابعی کا ایک صحابی سے مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ نبی کے ساتھی ہیں، ان کے سسرالی رشتہ دار، اور کاتبِ وحی ہیں۔

عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے نزدیک محبتِ صحابہ کے پرکھنے کا معیار ہیں، چناں چہ جو معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف نگاہِ غلط اٹھاتا ہے، یا ان کے خلاف بغض و عداوت رکھتا ہے ہم اسے پورے صحابہ سے نفرت کرنے والا سمجھتے ہیں۔
یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات میں طعن پورے صحابہ کی ذات میں طعن کے مترادف ہے۔

ربیع بن نافع الحلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے حجاب کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ جو حجاب سے چھیڑ خانی کرسکتا ہے وہ حجاب کے پیچھے چھپی اشیاء سے بدرجہ اولیٰ چھیڑ خانی کر سکتا ہے۔

امام سجزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:جو شخص عثمان، علی، عائشہ، معاویہ، عمرو بن العاص، اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں تنقیص کرتا ہے وہ خارجی اور گمراہ ہے۔

ابراھیم بن میسرۃ کہتے ہیں کہ:میں نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو کبھی کسی انسان کی پٹائی کرتے نہیں دیکھا، ہاں اگر کوئی معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا کہتا یا ان کی شان میں گستاخی کرتا تو پھر اس پر کوڑے برساتے تھے۔

امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو کچھ ہوا اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام احمد نے جواب دیا کہ: میں ان کے بارے سوائے اچھی بات کے اور کچھ نہیں کہوں گا، ان سب پر اللہ رب العالمین اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

ابوزرعۃ رازی رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں معاویہ سے نفرت کرتا ہوں، تو ابوزرعۃ نے اس سے پوچھا کہ کیوں نفرت کرتے ہو؟ تو اس نے کہا کہ: انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی اسی وجہ سے میں ان سے نفرت کرتا ہوں، ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ نے اس شخص سے کہا کہ: تو برباد ہوجائے، معاویہ رضی اللہ عنہ کا رب رحیم ہے، اور علي رضي الله عنہ جن سے انہوں نے قتال کیا وہ کریم الطبع اور شریف النفس ہیں، نیز ان دونوں سے اللہ راضی ہے، تو پھر تم کون ہوتے ہو ان دونوں کے درمیان دخل اندازی کرنے والے؟

امام نسائی رحمہ اللہ سے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا
اسلام کی مثال ایک گھر کی طرح ہے جس کا ایک دروازہ ہے، اور وہ دروازہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، چنانچہ جو صحابہ کو تکلیف دیتا ہے گویا کہ وہ اس گھر کو برباد کرنا چاہتا ہے، اور جو دروازہ پر دستک دیتا ہے در اصل وہ گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے ( یعنی جو صحابہ پر لعن طعن کرتا ہے در اصل وہ اسلام پر طعن کرنا چاہتا ہے)، اور جو معاویہ رضی اللہ عنہ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے حقیقت میں وہ پورے صحابہ کو مطعون کرنا چاہتا ہے۔

تلک عشرۃ کاملۃ

قارئینِ کرام یہ تو مشتِ نمونہ از خروارے ہے، ورنہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کیلئے۔

مصنف : ابو احمد کلیم – جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ